ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پور میں خواتین کی عصمت دری، برہنہ گمایاگیا، انسانیت شرمسار، سپریم کورٹ برہم 

منی پور میں خواتین کی عصمت دری، برہنہ گمایاگیا، انسانیت شرمسار، سپریم کورٹ برہم 

Fri, 21 Jul 2023 10:17:50    S.O. News Service

خواتین کے ساتھ بربریت و درندگی کا ویڈیو وائرل کلیدی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ 


نئی دہلی،21/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) تشدد سے متاثرہ منی پور کی دو خواتین کو سڑک پر برہنہ گھمانے کی ایک چونکا دینے والی ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشتعل ہجوم نے نہ صرف متاثرہ خواتین کی پورے علاقے میں برہنہ پڑیڈ کروائی بلکہ انہیں اجتماعی عصمت دری کا بھی نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق عصمت دری اور مارپیٹ کے بعد خواتین بول بھی نہیں پارہی ہیں۔ اطلاعاعات کے مطابق منی پور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ 4/مئی کو پیش آیا۔ متاثرہ خواتین واقعے کے دو  ہفتے بعد پولیس اسٹیشن آئی اور شکایت درج کرائی۔ساتھ ہی منی پور کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے معاملے کی تیزی سے جانچ کا حکم دیا ہے۔ مرکزی خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی نے منی پور کے اس معاملے کو لے کر ٹوئٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا "منی پور میں 2 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہولناک ویڈیو قابل مذمت اور سراسر غیر انسانی ہے۔ وزیر اعلی این بیرن سنگھ سے بات کی ، انہوں نے مجھے بتایا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ سی ایم نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں چھوڑی جائے گی۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ملزمان کے خلاف کا رروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے منی پور کے واقعہ پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی پور کی بیٹیوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کے مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منی پور کے وزیر اعلی این بیرین سنگھ سے فون پر بات کی ہے۔ دریں اثنا، سپریم کورٹ نے منی پور کے اس سنسنی خیز معاملہ کا از خود نوٹس لیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا "منی پور میں جو کچھ ہوا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ یہ پورے ملک کو شرمندہ کرنے جیسا ہے۔ میں تمام وزرائے اعلیٰ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ریاست کی ماؤں اور بیٹیوں کی حفاظت اور نظم و نسق کی صورت حال کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ چوکس رہیں ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ منی پور کے واقعہ میں قصورواروں کو سخت ترین سزا ملے گی۔ خواتین کے ساتھ جو ہوا وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے درست نہیں ہے۔ وہیں، منی پور کے اس ہولناک واقعہ پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے ضروری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیف جسٹس آف انڈ باڈی وائی چندر چوڑ نے کہا ہم حکومت کو کارروائی کرنے کے لیے تھوڑا وقت دیں گے ورنہ ہم خود قدم اٹھائیں گے۔“

 

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبر دست شور شرابہ، ہنگامہ،استعفوں کا مطالبہ، کارروائی ملتوی

 منی پور جل رہا ہے، خواتین کی عصمت دری ہورہی ہے، برہنہ کر کے گھمایا جارہا ہے لیکن وزیر اعظم خاموش ہیں: مکارجن کھرگے

 اپوزیشن جماعتوں نے منی پور میں جاری تشدد پر پارلیمنٹ میں ترجیحی اور  تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا اور نعرے بازی کی۔ جس کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی کارروائی جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ کانگریس کے صدر ملکار جن کھرگے نے کہا کہ ملکارجن کھرگے منی پور جل رہا ہے، خواتین کی عصمت دری ہورہی ہے، انہیں برہنہ کر کے گھمایا جارہا ہے اور خوفناک تشدد ہورہا ہے لیکن وزیر اعظم اتنے دنوں سے خاموش ہیں۔ اتنے غصے کے بعد آج انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر بیان دیا۔کرگھے کا کہنا تھا کہ ہم منی پور پر تفصیلی بحث چاہتے ہیں اور پی ایم مودی کو ایوان میں اس پر تفصیلی بیان دینا چاہیے۔ ہم منی پور کے وزیر اعلیٰ کے فوری استعفیٰ اور صدر راج نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ۔ در اصل اپوزیشن پارلیمنٹ کے قاعدہ 267 کے تحت منی پور معاملے پر بحث کا مطالبہ کر رہی تھی۔ منی پور معاملے پر پہلے راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ راجیہ سبھا کی کارروائی 12 بجے شروع ہوئی تو اسی معاملے پر دوبارہ ہنگامہ شروع ہو گیا جس کے بعد ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کردی گئی ۔ راجیہ سبھا کی کارروائی 2 بجے شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کو جمعہ تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ ایوان میں زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور منی پور۔ منی پور کے نعرے لگانے لگے۔ اپوزیشن نے کہا کہ منی پور تشدد پر راجیہ سبھا میں قاعدہ 267 کے تحت دیگر تمام کاموں کو ملتوی کر کے بحث کی جانی چاہئے۔ اپوزیشن کے ارکان نے وزیر اعظم سے منی پور تشدد پر بیان دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ حکومت اور چیزمین نے منی پور کے معاملے پر مختصر بات چیت پر اتفاق کیا لیکن اپوزیشن نے ایوان میں منی پور کے معاملے پر وزیر اعظم کے بیان اور اس موضوع پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا۔ مختصر بحث کو سنے کے بعد ٹی ایم سی کے ایم پی ڈیرک او برائن نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو منی پور ویڈیو پر بات کرنی ہوگی۔ وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتے ۔ ایوان میں اس مسئلہ پر چیئر مین اور کا نگر یس صدر ملکار جن کھرگے کے درمیان نوک جھونک بھی ہوئی۔ حکومت کی جانب سے منی پور کے پر تشدد واقعات پر بحث کا مطالبہ ماننے کے باوجود اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے مانسون اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ دوپہر 2 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی ، پریذائیڈنگ آفیسر کریٹ سو لنکی نے کہا کہ ایوان میں متعدد اراکین کی طرف سے تحریک التواء موصول ہوئی ہے لیکن اسپیکر نے کسی تحریک کو قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ضروری دستاویزات ایوان کے فلور پر رکھنے کے لیے وزراء کے نام پکارنا شروع کر دیے۔ تبھی اپوزیشن اراکین چار ایوان میں جمع ہو گئے اور منی پور کے پر تشدد واقعات کے حوالے سے انہوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور صدرنشیں کی نشست کے گرد آ گئے۔ دستاویزات رکھنے کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر نے ممبران سے ضابطہ 377 کے تحت معاملات تحریری طور پر پیش کرنے کی اراکین سے درخواست کی ۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پر بلاد جوشی نے کہا کہ ہم یہ بات ریکارڈ پر کہنا چاہتے ہیں اور ایوان کے ڈپٹی لیڈر راج ناتھ سنگھ نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت انسانی حساسیت سے جڑے منی پور واقعات پر دونوں ایوانوں میں بحث کے لیے تیار ہے اور وزیر داخلہ بھی اس کا تفصیل سے جواب دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم اپوزیشن سے گزارش کرتے ہیں کہ ایوان کو وہ احسن طریقے سے چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے معزز اسپیکر کو وقت طے کرنے دیں۔ 


اگر حکومت کارروائی نہیں کرتی ہے تو عدالت اپنا فرض پورا کرےگی، عدالت عظمیٰ کا مرکز اور ریاستی حکومت کو نوٹس

سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز تشدد زدہ منی پور میں ایک وائرل ویڈیو کا جس میں دو خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ اور انہیں برہنہ گھمایا جارہا تھا، کا ازخود نوٹس لیا اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا۔ ہم حکومت کو اقدامات کرنے کا وقت دیتے ہیں۔ اگر وہاں کچھ نہیں ہوا تو ہم قدم اٹھائیں گے۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا اور منوج مشرا کی بنچ نے منی پور حکومت اور مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر بتائے کہ دل و ہلا دینے والے اس واقعہ میں اس نے اب تک کیا کارروائی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتانے کے لئے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہونے کے لیے اس نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ اس ویڈیو میں نظر آنے والے واقعہ کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے بینچ نے کہا کہ اگر حکومت اس معاملے میں کاروائی نہیں کرتی ہے تو عدالت اسے نظر انداز نہیں کر سکتی، وہ اپنا فرض پورا کرے گی۔

منی پور واردات کے خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا: نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے منی پور میں ہوئی واردات کے تعلق سےکہا کہ منی پور میں دو خواتین کی برہنہ پریڈ کے خوفناک ویڈیو پرمجھے بہت افسوس ہے۔ اس واردات میں ملوث تمام ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ منی پور کی بیٹیوں کے ساتھ جو ہوا اسے کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ واضح رہے کہ نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز سے پہلےکہاکہ جب میں جمہوریت کے اس مندر کے پاس کھڑا ہوتا ہوں تو میرا دل غم اور غصے سے بھر جاتا ہے۔ منی پور کا واقعہ ہر مہذب معاشرہ کیلئے شرمناک ہےجس کی وجہ سے پورا ملک شرمندہ ہے۔ اس واقعے کی اطلاع کے77؍دن بعد پہلی گرفتاری آج عمل میں آئی ہے۔مودی نے کانگریس کے زیر اقتدار راجستھان اور چھتیس گڑھ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام وزرائے اعلیٰ سے میری اپیل ہے کہ وہ اپنی ریاست میں خواتین کے تعلق سے امن و امان کو سخت بنائیں اور سخت کارروائی کریں۔ ہمیں سیاست سے اوپر اٹھ کرسنگین جرائم کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں منی پور پر وزیر اعظم کے بیان کا مطالبہ کیا۔ تقریباً 15اراکین پارلیمان نے منی پور پر بحث کیلئے تمام کام کو معطل کرنے کا نوٹس دیا۔ واضح رہے کہ منی پور میں نسلی تشدد میں اب تک140 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیںجو اَب ریلیف کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔


Share: